بد گمانی

سوال: بنیادی طور پر گما ن کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب:بنیادی اعتبار سے گمان کی دو اقسام ہیں: 1حُسنِ ظن 2سو٫ظن یعنی بد گمانی۔

سوال:بد گمانی کی تعریف کیا ہے؟

جواب:بد گمانی سے مراد یہ ہے کہ بلا دلیل دوسرے کے بُرے ہونے کا دل سے پختہ یقین کرنا۔

سوال:بد گمانی کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:مسلمان کے ساتھ بد گمانی حرام ہے۔

سوال:بُرے گمان کے دل میں جم جانے کی پہچان کیاہے؟

جواب:جس کے بارے میں اسے بد گمانی ہے اس کے متعلق پہلے جیسی قلبی کیفیت نہ رہے،اس سے بہت نفرت کرنے لگے،اسے بوجھ تصور کرے،اس کے احوال کی رعایت اور اس کی عزت کرنا چھوڑ دے۔

سوال:بد گمانی سے کونسے باطنی امراض پیدا ہوتے ہیں؟

جواب:بد گمانی سے بغض اور حسد جیسے باطنی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔

سوال:بد گمانی کو دور کرنے کا علاج کیا ہے؟

جواب :بد گمانی سے توجہ ہٹادی جائے۔حدیث پاک میں ہے کہ جب تم بد گمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو۔

سوال:حدیث پاک میں اچھے گمان کے بارے میں کیا فرمایا گیا؟

جواب:حضور نبی مکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:اچھا گمان اچھی عبادت سے ہے۔

سوال:بد ترین جھوٹ کیا ہے؟

جواب:حدیث پاک میں بد گمانی کو بدترین جھوٹ فرمایا گیا ہے۔

سوال:مسلمان سے بد گمانی پر حدیث شریف سے کیا وعید آئی ہے؟

جواب:حضور تاجدارِ رسالت صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے اپنے مسلمان بھائی سے بُرا گمان رکھا،بے شک اس نے اپنے رب عزوجل سے بُرا گمان رکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *